ابنا: ایریزونا سے ریپبلکن سینیٹر جان مک کین نے سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں اس بات کا امکان ہے کہ اگر چھ ماہ تک مذاکرات کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا ہے تو ہم ایسا بل لائیں گے کہ جو چھ ماہ کے اختتام پر نافذ ہو جائے گا۔
مک کین نے مزید کہا کہ "ایران کے یورینیم کی افزودگی کے حق کے بارے میں انہیں امریکی وزیر خارجہ جون کیری سے اختلاف ہے۔ کیری سوچتے ہیں کہ معاہدے کی رو سے ایرانیوں کو افزودگی کا حق حاصل ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ انہیں برسوں تک جھوٹ بولنے، فریب دینے اور خفیہ سرگرمیوں کے بعد اس کا حق ہے۔"
" سنٹری فیوج کام کر رہے ہیں، اراک تنصیبات میں ابھی بھی تعمیرات جاری رہنے کا امکان ہے۔ اور اب جب وہ جاری رکھے ہوئے ہیں تو ہم رک رہے ہیں، ہم پابندیوں میں کمی کر رہے ہیں جبکہ وہ اپنی سرگرمیوں کو بڑے پیمانے پر جاری رکھے ہوئے ہیں۔
غور طلب ہے کہ امریکی سینیٹر نے یہ بیان بازی ایسے وقت میں کی ہے کہ جب اوباما انتظامیہ ایران کے جوہری مسئلہ کے حل کے لیے مسلسل سفارت کاری پر تاکید کر رہی ہے۔ وائٹ ہاؤس نے متعدد بار کانگریس کو انتباہ دیا ہے کہ وہ حکومت کو مذاکرات کے راستے پر آگے بڑھنے دے، دوسری صورت میں قومی مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے اس لیے کہ امریکہ اب کسی نئی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
گزشتہ ہفتے امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کانگریس کے سامنے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کا دفاع کیا تھا اور کہا تھا کہ ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا بل پیش نہیں کیا جائے۔
اس کے باوجود جمعرات کو امریکی انتظامیہ نے ایرانی کمپنیوں اور کچھ شخصیتوں کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔
ایران نے امریکی پابندیوں پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم حالات کا جائزہ لے رہے ہیں اور 19 کمپنیوں و شخصیتوں کے خلاف پابندیوں کا مناسب جواب دیا جائے گا۔ اور امریکہ کا یہ قدم جنیوا معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے۔
.....
/169